میرے مسیحا میں جی اٹھوں گی دعائیں دے دے دوا سے پہلے
حیات میں نور بن کے آ جا، غموں کی کالی گھٹا سے پہلے
جو چاہتے ہیں مدد سبھی سے، ذلیل ہوتے ہیں وہ جہاں میں
نوازتی ہیں انہیں کو دنیا جو مانگتے ہیں خدا سے پہلے
وطن بچانے کا وقت ہے یہ، مکان بچانے کی فکر چھوڑو
میرے بھی ہاتھوں میں تیغ دے دو میرے بزرگوں حنا سے پہلے
خطائیں مجھ سے ہوئی ہے لیکن مجھے یقیں ہے تُو بخش دے گا
میں حشر کے دن پکار لوں گی، ترے کرم کو سزا سے پہلے
جو آندھیوں کے خلاف ہوں گے دِیے انہیں کے رہیں گے روشن
چراغ ان کے نہ جل سکیں گے، جو پوچھتے ہیں ہوا سے پہلے
شبینہ ادیب کانپوری
No comments:
Post a Comment