فقط اک گھونٹ ہے دل کو لبالب جام دریا کا
سمندر دسترس میں ہو تو پھر کیا کام دریا کا
کنارِ چشم سے جب بھی طوافِ عشق کو نکلا
بنی ہے چاندنی ہر مرتبہ احرام دریا کا
فنا ہو کر دلیلِ رونقِ بحرِ رواں رہنا
یہی دستورِ قدرت ہے یہی انجام دریا کا
بھٹکتا ہے غلافِ چشمِ بینا کے تصرف کو
اٹکتا خوشۂ ہر اشک میں پیغام دریا کا
محبت زینتِ پاپوش ہم نے اس طرح کر دی
کہ جیسے بہرِ خاص و عام، فیضِ عام دریا کا
یہ کیا طاہر کہ سسی کو تو کارِ عشق نے نِگلا
بہ لوحِ وقت لیکن نام ہے بدنام دریا کا
طاہر عدیم
No comments:
Post a Comment