Friday, 18 December 2020

انتہا اب پیار کی اے یار ہونی چاہیے

 انتہا اب پیار کی اے یار ہونی چاہیے

اس سفر میں باتیں بھی دو چار ہونی چاہیے

عشق کرنے کیلئے کب ہے ضرورت ہوش کی

عقل بھی تھوڑی بہت بیمار ہونی چاہیے

عاشقی کا اک نیا قصہ چھپے روزانہ ہی

پڑھنے کو ایسی خبر اخبار ہونی چاہیے

واسطہ غم کا مسلسل زندگی سے رہتا ہے

ہر کسی کی زندگی گلزار ہونی چاہیے

اے خدا تو مسکرانے کی کوئی تو دے وجہ

زندگی ایسی نہ اب دشوار ہونی چاہیے

لطف ہو اشعار میں ایسا اثر دل پر کرے

داد کی ہر شعر پر بھر مار ہونی چاہیے

زندگی کی ڈوبتی کشتی بچانے کے لئے

جو سہارا دے کوئی پتوار ہونی چاہیے


سیما غزل

No comments:

Post a Comment