انتہا اب پیار کی اے یار ہونی چاہیے
اس سفر میں باتیں بھی دو چار ہونی چاہیے
عشق کرنے کیلئے کب ہے ضرورت ہوش کی
عقل بھی تھوڑی بہت بیمار ہونی چاہیے
عاشقی کا اک نیا قصہ چھپے روزانہ ہی
پڑھنے کو ایسی خبر اخبار ہونی چاہیے
واسطہ غم کا مسلسل زندگی سے رہتا ہے
ہر کسی کی زندگی گلزار ہونی چاہیے
اے خدا تو مسکرانے کی کوئی تو دے وجہ
زندگی ایسی نہ اب دشوار ہونی چاہیے
لطف ہو اشعار میں ایسا اثر دل پر کرے
داد کی ہر شعر پر بھر مار ہونی چاہیے
زندگی کی ڈوبتی کشتی بچانے کے لئے
جو سہارا دے کوئی پتوار ہونی چاہیے
سیما غزل
No comments:
Post a Comment