خمارِ عشق بتا تیری کیمیا کیا ہے؟
مرے وجود پہ چھایا ہوا نشہ کیا ہے
کوئی بگولہ ہے کیا میری ذات میں مضمر
یہ رقص کرتا ہوا، خاک سے اٹھا کیا ہے
نصابِ عشق میں کب ہے قناعتوں کا سبق
جب آئے بات محبت کی، اکتفا کیا ہے
ذرا سا چُھو کے ہے کندن بنا دیا مجھ کو
کسی کے لمس میں یارب یہ معجزہ کیا ہے
جو قول و فعل میں یکساں ہے پارسا ہے وہی
اگر نہیں تو یہ دستار کیا، عبا کیا ہے؟
وہی تو ہے جو خسارا اٹھائے گا اک دن
جسے پرکھ نہیں کھوٹا ہے کیا، کھرا کیا ہے
ہے کرنا جان نچھاور تو ہچکچاہٹ کیوں
جو دل میں ٹھان لیا ہے تو سوچنا کیا ہے
خدا کرے کہ ہمیشہ ہی مور پالا کرو
تمہیں خبر ہی نہ ہو رنج پالنا کیا ہے
چلو یہ مان لیا بدگماں نہیں ہو، مگر
تمہارے لہجے سے کانٹا سا یہ چبھا کیا ہے
نسرین سید
No comments:
Post a Comment