وہ جو اک تِل سا نہیں ہے تِرے رخسار کے ساتھ
ایک لشکر نظر آئے مجھے یلغار کے ساتھ
ہم تو وہ ہیں کہ چلے آتے ہیں دستار کے ساتھ
وہ بلائیں تو زرا نرمئ گُفتار کے ساتھ
مجھ کو دیوار سے لگنے کا ہنر آتا ہے
ایک تصویر بناؤں گا کبھی یار کے ساتھ
تم نے محفل میں بڑے لوگ بٹھا رکھے ہیں
مجھ حسینی کو بٹھا دینا عزادار کے ساتھ
وہ مجھے روز ہی بچوں کی طرح ڈانٹتی ہے
اور پھر روز مناتی ہے بڑے پیار کے ساتھ
میں سخنور ہوں، محبت کی زباں آتی ہے
میری بنتی ہی نہیں خنجر و تلوار کے ساتھ
صبح دم، آپ کا دیدار، صبا کی مستی
ایسے میں چائے بھی مل جائے نا اخبار کے ساتھ
ہم کسی طور قلم گِروی نہیں رکھ سکتے
اس لیے اپنی نہیں بنتی ہے سرکار کے ساتھ
اک شبِ قدر ترے نام کروں گا اشرف
تم اگر سحری بھی کرواؤ گے افطار کے ساتھ
اشرف علی
No comments:
Post a Comment