Thursday, 30 April 2026

دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

 دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے

پر راہ بہت دور ہے، بارش بھی بہت ہے

دیکھو تو سہی خواہ اُچٹتی سی نظر سے

میرے لیے اتنی سی نوازش بھی بہت ہے

تُو نے تو کہا تھا کہ؛ نمائش نہیں اچھی

اک داغ دکھایا، یہ نمائش بھی بہت ہے

اس شخص کو پیسے کی کمی کیا ہے کہ جس کا

مشہور قبیلہ ہے، سفارش بھی بہت ہے

وہ ایسی پری چہرہ ہے شہزادی کہ اس کو

جگنو جو دکھاتا ہے وہ تابش بھی بہت ہے

جو قافلہ نکلا ہے، رکے گا نہ رکا ہے

دل میں ہے لگن پاؤں میں جُنبش بھی بہت ہے

دیوار جو حائل ہے وہ اک روز گرے گی

کوشش بھی میری آپ کی کاوش بھی بہت ہے

اک ایک ورق کتنا منقش ہے چمن کا

نقاشِ ازل کی یہ نگارش بھی بہت ہے

معلوم ہے ان کو کہ تمنا مِری کیا ہے

صابر مِری تھوڑی سی گزارش بھی بہت ہے


ڈاکٹر صابر آفاقی

No comments:

Post a Comment