Tuesday, 14 April 2026

اس کی جفا میں ہوں میں نہ میری وفا میں وہ

 اس کی جفا میں ہوں میں، نہ میری وفا میں وہ

لیکن ہنوز بن کے خلش ہے دُعا میں وہ

اچھا ہوا کہ ٹُوٹ کے میں ہی بکھر گیا

آنے لگا تھا مجھ کو نظر آئینہ میں وہ

محدود تو نہیں ہے سلیماں کی دسترس

رہتا ہے تو رہے ابھی شہرِ سبا میں وہ

گُونگا بنا دیا ہے فریبِ خلوص نے

اب تک تھا پیش پیش میرے ہمنوا میں وہ

سچائیوں کی راہ میں نیزے پہ سر بُلند

دُنیا کی ہر زمیں پہ ہے کربلا میں وہ

راضی قضا و قدر پہ اپنی رہو عظیم

خُوشیوں کے قند میں ہے تو غم کی دوا میں وہ


عظیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment