Wednesday, 22 April 2026

مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف

 مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف 

کھڑے ہوئے تھے سبھی  دوست یار میری طرف  

ہوائیں کھا گئیں ہیں طاقچوں میں رکھے دیے 

بڑھا ہے آندھیوں کا اب حصار میری طرف

حضورِ یار میں نم جب فصیلِ چشم ہوئی 

بڑھا وہ بن کے مِرا غمگسار میری طرف

ہے گردِ کوچہ اگر اصل زر فقیروں کا 

تو کیوں ہے آیا غمِ روزگار میری طرف 

دیارِ گل میں لیا کام جب جنوں سے احد 

کمانِ شاخ سے بڑھ آئے خار میری طرف


زبیر احد

No comments:

Post a Comment