Monday, 27 April 2026

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

 دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

دیوار میں در بنتا ہے  دستک سے ہماری

بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل

اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری

ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا

اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری

قربان اس انصاف کے، خود حضرتِ دشمن

تعزیر لکھے دستِ مبارک سے ہماری

جب دار پہ کھینچے گئے ہم تب کہیں نسبت

مانی گئی منصور کے مسلک سے ہماری


عقیل شاہ

No comments:

Post a Comment