دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری
دیوار میں در بنتا ہے دستک سے ہماری
بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل
اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری
ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا
اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری
قربان اس انصاف کے، خود حضرتِ دشمن
تعزیر لکھے دستِ مبارک سے ہماری
جب دار پہ کھینچے گئے ہم تب کہیں نسبت
مانی گئی منصور کے مسلک سے ہماری
عقیل شاہ
No comments:
Post a Comment