آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
مسئلہ رات نہیں ہے میرا
صبحِ صادق کا ستارہ سچ ہو
کوئی توجیہ ملے آنکھوں کی
کوئی تو خواب ہمارا سچ ہو
واحد سراج
No comments:
Post a Comment