فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں
ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں
میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل
خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں
اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت
تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں
خبر کیا دو نہ دو جواب اس کا تو کیا دو
تمہاری میز پر پیغام رکھ کر آ گیا ہوں
اور اب چاہے کوئی چلتی ہوا کی طرح گزرے
چراغوں کو کنارِ بام رکھ کر آ گیا ہوں
ابھی آیا ہوں اور یہ سوچ کر اب لوٹتا ہوں
کہ تجھ سے کیا امیدِ خام رکھ کر آ گیا ہوں
در آیا ہوں سرِ محفل کوئی بہروپ بھر کر
سو اب اقبال کوثر نام رکھ کر آ گیا ہوں
اقبال کوثر
No comments:
Post a Comment