Monday, 27 April 2026

فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

 فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں

میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل

خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں

اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت

تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں

خبر کیا دو نہ دو جواب اس کا تو کیا دو

تمہاری میز پر پیغام رکھ کر آ گیا ہوں

اور اب چاہے کوئی چلتی ہوا کی طرح گزرے

چراغوں کو کنارِ بام رکھ کر آ گیا ہوں

ابھی آیا ہوں اور یہ سوچ کر اب لوٹتا ہوں

کہ تجھ سے کیا امیدِ خام رکھ کر آ گیا ہوں

در آیا ہوں سرِ محفل کوئی بہروپ بھر کر

سو اب اقبال کوثر نام رکھ کر آ گیا ہوں


اقبال کوثر

No comments:

Post a Comment