Thursday, 23 April 2026

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

 اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے

درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے

لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے

روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا

وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے

ایک بے پردہ محبت کو سمجھ کر سچ ہے

جبر کو صبر کا ہمراز بنایا ہم نے

راہ کی دھول کو راہبر ہی سمجھ بیٹھے تھے

آبلہ پا تھے مگر نام کمایا ہم نے

تیرے ہونٹوں کے لیے باغ کی شرطیں مانیں

پھول کے جسم سے رنگوں کو چرایا ہم نے

دل کی کشتی کو کنارے سے لگایا کشور

اور پھر اس میں محبت کو بٹھایا ہم نے


شاہینہ کشور 

No comments:

Post a Comment