وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ
جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ
غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ
اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ
ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں
لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ
یاد آئی اور آنکھ سے آنسو نکل پڑے
اک حادثہ ہیں آپ مِری زندگی کے ساتھ
دل پر ہزار ظلم و سِتم ڈھائیے مگر
للہ کھیلیے نہ مِری زندگی کے ساتھ
وہ زندگی ہے اصل میں بے کیف اے پیام
جب تک کہ ہو نہ لذتِ غم بھی خوشی کے ساتھ
پیام سیہالوی
محمد شفیق
No comments:
Post a Comment