Sunday, 19 April 2026

عشق کے ماروں کو درکار سفر

 عشق کے ماروں کو درکار سفر

دو کناروں کا ہے بس یار سفر

سوچا اک دن یونہی اپنے بارے

یونہی لگنے لگا بے کار سفر

میں رُکا ہوں یوں دلِ خستہ میں اک

جیسے منزل پہ ہو درکار سفر

ڈال کر خانۂ وحشت میں دل

تجھ کو اب کرنا ہے اُس پار سفر

چار سُو نعرۂ اندام ہے یہ

نہ کبھی بھی کریں رُخسار سفر

دیکھ پژمُردگی آنکھوں میں احد

کیا یہ کرنے کو ہیں تیار سفر


زبیر احد

No comments:

Post a Comment