عشق کے ماروں کو درکار سفر
دو کناروں کا ہے بس یار سفر
سوچا اک دن یونہی اپنے بارے
یونہی لگنے لگا بے کار سفر
میں رُکا ہوں یوں دلِ خستہ میں اک
جیسے منزل پہ ہو درکار سفر
ڈال کر خانۂ وحشت میں دل
تجھ کو اب کرنا ہے اُس پار سفر
چار سُو نعرۂ اندام ہے یہ
نہ کبھی بھی کریں رُخسار سفر
دیکھ پژمُردگی آنکھوں میں احد
کیا یہ کرنے کو ہیں تیار سفر
زبیر احد
No comments:
Post a Comment