اس کا بدن ہے دھوپ سے اور دل گھٹاؤں سے
ایسے خمیر اٹھتا ہے دو انتہاؤں سے
جو زعم عشق لے کے چلے ہیں حضور حسن
میری طرف سے تعزیت ان سب کی ماؤں سے
وہ دیویاں بھی رونق بازار ہو گئیں
اپنی نگاہ اٹھتی نہ تھی جن کے پاؤں سے
رزاق کون اپنا سراپا ہی رزق ہے
چھینے گا کیا ردا کوئی ہم بے رداؤں سے
آپس میں اختیار بدلنے کا بندوبست
تھا اور پھر پری نہ ملی دیوتاؤں سے
اب تو وہاں نہ ماں ہے نہ وہ بزمِ دلبراں
یعنی بچا ہی کیا ہے کہ رغبت ہو گاؤں سے
عثمان حبیب
No comments:
Post a Comment