Monday, 13 April 2026

چھینے گا کیا ردا کوئی ہم بے رداؤں سے

اس کا بدن ہے دھوپ سے اور دل گھٹاؤں سے

ایسے خمیر اٹھتا ہے دو انتہاؤں سے

جو زعم عشق لے کے چلے ہیں حضور حسن

میری طرف سے تعزیت ان سب کی ماؤں سے

وہ دیویاں بھی رونق بازار ہو گئیں

اپنی نگاہ اٹھتی نہ تھی جن کے پاؤں سے

رزاق کون اپنا سراپا ہی رزق ہے

چھینے گا کیا ردا کوئی ہم بے رداؤں سے

آپس میں اختیار بدلنے کا بندوبست

تھا اور پھر پری نہ ملی دیوتاؤں سے

اب تو وہاں نہ ماں ہے نہ وہ بزمِ دلبراں

یعنی بچا ہی کیا ہے کہ رغبت ہو گاؤں سے


عثمان حبیب 

No comments:

Post a Comment