ہجر زدہ آنکھیں
محبت میں خوشی میں یہ
ہمیں اکثر رلاتی ہیں
کبھی یہ ہجر میں آنکھوں سے اک دریا بہاتی ہیں
غموں میں یہ کبھی کالی
گھٹائیں ساتھ لاتی ہے
مجھے عاشی یہ پلکوں کی جھڑی اچھی نہیں لگتی
مجھے آنکھوں کی یہ بارش
کبھی اچھی نہیں لگتی
اِدھر اچھی نہیں لگتی
اُدھر اچھی نہیں لگتی
عائشہ غفار عاشی
No comments:
Post a Comment