Thursday, 30 April 2026

عاشق خستہ حال اٹھ حسن سے رسم و راہ کر

 عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر

جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر

❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤

سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر

پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے

تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر

بنی بنائی انجمن غیر کو تُو نے سونپ دی

کھول لے اب تو آنکھ کو خود کو نہ یوں تباہ کر

صدیق کے قدم پہ تُو اپنا قدم کبھی نہ رکھ

اس سے تو کہہ گیا کوئی؛ عشق میں آہ آہ کر


صدیق احمد نظامی بچھرایونی

No comments:

Post a Comment