Sunday, 5 April 2026

نفرتیں دیکھیں مگر پیار نہیں دیکھا ہے

 ایک مدت سے رخ یار نہیں دیکھا ہے

نفرتیں دیکھیں مگر پیار نہیں دیکھا ہے

درد اور غم کا جو درمان بھی لے کر آئے

میں نے ایسا کوئی غمخوار نہیں دیکھا ہے

نظر آتے ہیں پجاری تو بہت دولت کے

کوئی الفت کا طلبگار نہیں دیکھا ہے

وہ جو مزدور بناتے ہیں محل اوروں کے

ان کا اپنا کوئی گھر بار نہیں دیکھا ہے

قتل و غارت ہے بپا کیسی مرے شہروں میں

یوں کبھی خون کا بازار نہیں دیکھا ہے


فرہاد احمد فگار

No comments:

Post a Comment