ایک مدت سے رخ یار نہیں دیکھا ہے
نفرتیں دیکھیں مگر پیار نہیں دیکھا ہے
درد اور غم کا جو درمان بھی لے کر آئے
میں نے ایسا کوئی غمخوار نہیں دیکھا ہے
نظر آتے ہیں پجاری تو بہت دولت کے
کوئی الفت کا طلبگار نہیں دیکھا ہے
وہ جو مزدور بناتے ہیں محل اوروں کے
ان کا اپنا کوئی گھر بار نہیں دیکھا ہے
قتل و غارت ہے بپا کیسی مرے شہروں میں
یوں کبھی خون کا بازار نہیں دیکھا ہے
فرہاد احمد فگار
No comments:
Post a Comment