بازی کو جیت کر بھی پھر ہار مانگتے ہیں
ہم سرخوشی کے عالم میں پیار مانگتے ہیں
خود سے گِلہ رہے گا، کیوں ہم سمجھ نہ پائے
پھولوں سے ہے بغاوت اور خار مانگتے ہیں
ہم یہ تو جانتے ہیں، بے کار ہیں صدائیں
پھر بھی دعائیں کیوں ہم بے کار مانگتے ہیں
ہے جاں کنی کا لمحہ، مرنے لگے ابھی ہم
اس حال میں بھی تیرا دیدار مانگتے ہیں
ہم کو بدر سزاؤں سے ملتی ہے اب خوشی
ہم وہ دیوانے ہیں جو خود، دار مانگتے ہیں
بدر نوید
No comments:
Post a Comment