Monday, 4 October 2021

بازی کو جیت کر بھی پھر ہار مانگتے ہیں

 بازی کو جیت کر بھی پھر ہار مانگتے ہیں

ہم سرخوشی کے عالم میں پیار مانگتے ہیں

خود سے گِلہ رہے گا، کیوں ہم سمجھ نہ پائے

پھولوں سے ہے بغاوت اور خار مانگتے ہیں

ہم یہ تو جانتے ہیں، بے کار ہیں صدائیں

پھر بھی دعائیں کیوں ہم بے کار مانگتے ہیں

ہے جاں کنی کا لمحہ، مرنے لگے ابھی ہم

اس حال میں بھی تیرا دیدار مانگتے ہیں

ہم کو بدر سزاؤں سے ملتی ہے اب خوشی

ہم وہ دیوانے ہیں جو خود، دار مانگتے ہیں


بدر نوید

No comments:

Post a Comment