دلوں میں کس نے اُتارا مزاج پتھر کا
لگا ہے مجھ کو تو سارا سماج پتھر کا
تمہارے شہر سے گُزرا تو یہ کُھلا مجھ پہ
بدل سکے گا نہ بدلا رواج پتھر کا
عجیب طرز کی دنیا میں آ گیا ہوں میں
جہاں زمین ہے شیشہ، سراج پتھر کا
ہنر کا تم نے کڑا امتحان دینا ہے
تمہارے چاک پہ پیکر ہے آج پتھر کا
بڑے غرور سے آ کر ہوا ہوں تخت نشیں
مگر ہے سر پہ مقدر سے تاج پتھر کا
کہیں خدا سے ملیں سختیاں پہاڑوں کو
کہیں خداؤں کی صورت ہے راج پتھر کا
لکھا ہے میرے تنِ چاک چاک پر نصرت
ملا ہے عشق کو اکثر خراج پتھر کا
نصرت عارفین
No comments:
Post a Comment