Wednesday, 9 November 2022

سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے

 سانولی


سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے

مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو

رقص کرتی ہے تیرے حُسن کی رعنائی میں

وادئ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو

یہ تیرے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زُلفیں

جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دُھواں

جیسے مغموم مصور کے سیہ پوش خیال

جیسے موھوم جزیروں کی چھبیلی پریاں

تو وہ برسات کی گھنگھور گھٹا ہے جس میں

ایک کیفیت نغمات چھپی بیٹھی ہو

تُو کسی دل کا وہ سنولایا ہوا گوشہ ہے

جس میں رنگینئ جذبات چھپی بیٹھی ہو

دُودھیا حُسن سے اُکتا کے میری نظروں نے

جب بھی دیکھا ہے تیرے رنگ کا بھرپور نکھار

گونج اُٹھی ذھن میں اُڑتے ہوئے بھنوروں کی صدا

رچ گئی رُوح میں گاتی ہوئی کوئل کی پکار

کون ہے جس نے تیرا ذکر نہ چھیڑا ہو

اب تو ہر بزم کا ہے ایک موضوعِ سخن

کوئی دیتا ہے لقب لیلۂ بے محمل کا

کوئی کہتا ہے تجھے پیار سے کالی ناگن

کون سا لفظ تیرے واسطے ایجاد کروں

سوچتا ہوں تجھے کس نام سے میں یاد کروں


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment