Thursday, 16 December 2021

دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی

 دراز


دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی

پرانے کاغذوں سے دوستی کی

کوئی مٹتی ہوئی تحریر شاید

کوئی بوسیدہ سی تصویر شاید

کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ کسی کا

کسی کو چھوڑ کر جانا کسی کا

نزاکت سے رچا پیکر حیا کا

کوئی مشروط سا وعدہ وفا کا

تمنائیں بھی اور مجبوریاں بھی

محبت بھی، جنوں بھی، دوریاں بھی

جسے میں بھول آیا تھا کہیں پر

مِری وہ عمر رکھی ہے یہیں پر


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment