دراز
دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی
پرانے کاغذوں سے دوستی کی
کوئی مٹتی ہوئی تحریر شاید
کوئی بوسیدہ سی تصویر شاید
کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ کسی کا
کسی کو چھوڑ کر جانا کسی کا
نزاکت سے رچا پیکر حیا کا
کوئی مشروط سا وعدہ وفا کا
تمنائیں بھی اور مجبوریاں بھی
محبت بھی، جنوں بھی، دوریاں بھی
جسے میں بھول آیا تھا کہیں پر
مِری وہ عمر رکھی ہے یہیں پر
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment