Thursday, 16 December 2021

متاع آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

 متاعِ آبرو لے کر عطا سے کچھ نہیں ہوتا

بہا ہو خونِ دل تو خوں بہا سے کچھ نہیں ہوتا

مزاجِ دل بگڑ جائے تو پھر اے مہرباں! سنیۓ

جفا سے کچھ نہیں ہوتا، وفا سے کچھ نہیں ہوتا

سرِ مقتل تمہارے کارنامے سب نے دیکھے ہیں

سرِ منبر بہت آہ و بکا سے کچھ نہیں ہوتا

زباں کُھل جائے تو سب بندشیں بے سُود ہوتی ہیں

قدم اُٹھ جائیں تو زنجیرِ پا سے کچھ نہیں ہوتا


رئیس علوی

No comments:

Post a Comment