Thursday, 16 December 2021

یار کا پتا لوگو جا بجا نہیں ملتا

 یار کا پتا لوگو جا بجا نہیں ملتا

جس جگہ پہ کھویا ہو اس جگہ نہیں ملتا

شعلۂ جوالہ ہے،۔ آگ کا حوالہ ہے

مسجدوں کی ٹھنڈک میں اب خدا نہیں ملتا

عشق کرنے والے بھی عشق اب نہیں کرتے

جوئے شیر لانے کا اب صِلہ نہیں ملتا

لمبے لمبے رستوں پہ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو

منزلوں کی قُربت سے حوصلہ نہیں ملتا

دھوپ کے مسافر کو دشت کی مسافت میں

سایہ دار پیڑوں کا آسرا نہیں ملتا

اس قدر اُجالا ہے شہر کے دریچوں میں

جگنوؤں کو اب طلعت راستہ نہیں ملتا


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment