تابِ دیدار لا نہیں سکتے
ان سے نظریں ملا نہیں سکتے
رازِ دل اب چھپا نہیں سکتے
اور زباں پر بھی لا نہیں سکتے
دل میں رہتی ہے اک خلش پیہم
جس کو ہم خود بتا نہیں سکتے
دل میں ایسے بھی چند شکوے ہیں
جو زباں پر بھی لا نہیں سکتے
چل رہی ہے ہوا وہ گلشن میں
آشیاں تک بنا نہیں سکتے
مصلحت کچھ تو ہے منیر اس میں
ورنہ کیا خود وہ آ نہیں سکتے
منیر بھوپالی
No comments:
Post a Comment