Thursday, 16 December 2021

ٹھوکروں میں رہا اپنوں کی مقدر میرا

 ٹھوکروں میں رہا اپنوں کی مقدر میرا

ہے کوئی پوچھنے والا نہ ہے یاور میرا

مل گئی منزلِ مقصود سبھی کو، لیکن

مجھ کو بھٹکاتا رہا راہ میں رہبر میرا

ان کی عزت تو مجھے آج بھی پیاری ہے بہت

دل یہی کہتا رہا مجھ سے برابر میرا

اپنے دل میں جو ذرا مجھ کو جگہ دے دیتے

ہو ہی جاتا بخدا شہر میں اک گھر میرا

ظلم کرتے ہیں تو کرتے رہیں دنیا والے

پیشِ باطل کبھی جُھک سکتا نہیں سر میرا

جب بھی دل چاہے تِرا آنے کو، آ جانا اِدھر

بند ہو گا نہ کبھی تیرے لیے در میرا

فکر انجم یہی رہتی ہے مجھے ہر لمحہ

مجھ سے کب آئے گا ملنے کو وہ دلبر میرا


فریدہ انجم

No comments:

Post a Comment