ایک مانوس سا منظر
وہی گمنام سا رستہ
وہی پل اور وہی ساعت
وہی ماحول کی خنکی
وہی سردی کی شدت سے لرزتی انگلیاں میری
وہی تصویر پہلے سی
لرزتی انگلیوں پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دینا
وہ میرا "شکریہ" کہنا، تمہارا منہ چھپا لینا
وہ ہلکے ہلکے نیلگوں بادل، وہ پھیلی دھند کی چادر
وہ پہلے سا حسیں منظر
پر اس مانوس منظر میں
بتاؤں کیا کمی سی ہے؟
مری چھوٹی سی گاڑی میں
تمہاری سیٹ خالی ہے
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment