Monday, 3 January 2022

تمہاری سیٹ خالی ہے

 ایک مانوس سا منظر


وہی گمنام سا رستہ

وہی پل اور وہی ساعت

وہی ماحول کی خنکی

وہی سردی کی شدت سے لرزتی انگلیاں میری

وہی تصویر پہلے سی

لرزتی انگلیوں پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دینا

وہ میرا "شکریہ" کہنا، تمہارا منہ چھپا لینا

وہ ہلکے ہلکے نیلگوں بادل، وہ پھیلی دھند کی چادر

وہ پہلے سا حسیں منظر

پر اس مانوس منظر میں

بتاؤں کیا کمی سی ہے؟

مری چھوٹی سی گاڑی میں

تمہاری سیٹ خالی ہے


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment