Monday, 3 January 2022

ہیں عجیب طرح کے فاصلے مری ذات سے تری ذات تک

 ہیں عجیب طرح کے فاصلے مِری ذات سے تِری ذات تک

جو تمام عمر نہ طے ہوئے مری ذات سے تری ذات تک

کبھی تیری راہ میں دشت تھا کبھی میرے پاس نہ وقت تھا

کبھی لوگ درمیاں آ گئے مری ذات سے تری ذات تک

وہی جسم کی ہیں کثافتیں وہی روح کی ہیں مسافتیں

وہی وحشتوں کے ہیں سلسلے مری ذات سے تری ذات تک

کہیں کھو کے رہ گئیں منزلیں کہیں لٹ کے رہ گئے قافلے

کہیں راستے ہی نہ مل سکے مری ذات سے تری ذات تک

نہ وہ قربتوں کی تپش رہی نہ وہ چاہتوں کی خلش رہی

ہوئے جانے کیسے یہ حادثے مری ذات سے تری ذات تک

وہ ہوس پرست کے نام سے جو پکارتے تھے مجھے سنو

انھیں بندگی کے نشاں ملے مری ذات سے تری ذات تک

کبھی فرصتیں جو نصیب ہوں چلے آنا میرے مزار پر

ہیں ادھورے کتنے معاملے مری ذات سے تری ذات تک


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment