Monday, 3 January 2022

ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں

 ڈھونڈ لیں ہم کو ہماری جو خبر رکھتے ہیں

ہم کو دیکھیں وہ اگر حسن نظر رکھتے ہیں

واقف راہ ہیں منزل کی خبر رکھتے ہیں

کچھ سمجھ سوچ کے ہم عزم سفر رکھتے ہیں

آنکھ کو وقف سرِ راہ گزر رکھتے ہیں

خاک ہونے کے لیے ذوق نظر رکھتے ہیں

عشق اور عشق میں اک شان اثر رکھتے ہیں

حسن کی آنکھ محبت کی نظر رکھتے ہیں

اب وہ آنکھوں سے سمجھ لیتے ہیں حسرت دل کی

چشم بد دور نگاہوں پہ نظر رکھتے ہیں

ان کے جلوؤں کی حقیقت تو انہیں سے پوچھو

ہم تو بجلی کے چمکنے کی خبر رکھتے ہیں

اک کشش ہے کہ جو کھنچے لیے جاتی ہے ہمیں

ورنہ دیوانے بھی منزل کی خبر رکھتے ہیں

دور اندیشیٔ الفت نے کیا ہے محتاط

ہم نگاہوں میں تری راہ گزر رکھتے ہیں

ایک مرکز پہ سمٹ آئی ہے دنیائے جمال

کس کی تصویر کو ہم پیش نظر رکھتے ہیں

دل لگی عشق کی ہے حسن کا سنجیدہ مذاق

ہم کو دھوکا ہے کہ ہم درد جگر رکھتے ہیں

دیکھ لیں گے ترے جلوے بھی جو فرصت ہو گی

ہم ابھی دل کی تجلی پہ نظر رکھتے ہیں

ادب حسن ہے ورنہ یہ محبت والے

سحر آنکھوں میں خیالوں میں اثر رکھتے ہیں

آج کس بزم میں لے آئی ہے تقدیر منیر

کہ فرشتے بھی مرے سامنے سر رکھتے ہیں


منیر بھوپالی

No comments:

Post a Comment