Monday, 3 January 2022

زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی

 زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی

جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی

جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا

یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی

میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے

اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی

جانے کیسا ہے مِرے دست ہنر پر یہ عذاب

رنگ یوں بکھرے کہ تصویر بنائی نہ گئی

ایک ٹھوکر سے قبا گل کی بکھیرے گی ہوا

ان کی خوشبو بھی سلیقے سے چرائی نہ گئی

بے اثر آج بھی ہے زلف پریشاں کا فسوں

یوں ہی بکھری رہی زنجیر بنائی نہ گئی

بات بن جاتی مِری ایک ہی پل میں سلمیٰ

کیا کریں بات مگر ہم سے بنائی نہ گئی

 

سلمیٰ حجاب

No comments:

Post a Comment