زندگی روٹھی تو پھر ہم سے منائی نہ گئی
جب اندھیرا ہوا اک شمع جلائی نہ گئی
جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پہ مکاں ہو اپنا
یاد رفتہ ہے عجب آئی تو آئی نہ گئی
میں فلک چھو لوں تو قدموں سے زمیں جاتی ہے
اک نئی دنیا خلاؤں میں بسائی نہ گئی
جانے کیسا ہے مِرے دست ہنر پر یہ عذاب
رنگ یوں بکھرے کہ تصویر بنائی نہ گئی
ایک ٹھوکر سے قبا گل کی بکھیرے گی ہوا
ان کی خوشبو بھی سلیقے سے چرائی نہ گئی
بے اثر آج بھی ہے زلف پریشاں کا فسوں
یوں ہی بکھری رہی زنجیر بنائی نہ گئی
بات بن جاتی مِری ایک ہی پل میں سلمیٰ
کیا کریں بات مگر ہم سے بنائی نہ گئی
سلمیٰ حجاب
No comments:
Post a Comment