Monday, 3 January 2022

کسی کی جاں تمہیں پیاری نہیں ہے

 کسی کی جاں تمہیں پیاری نہیں ہے

یہ نادانی ہے، ہُشیاری نہیں ہے

انہوں نے کر دیا ہے جینا مشکل

جنہیں کوئی بھی دشواری نہیں ہے

مجھے مت روکیے سچ بولنے سے

یہ حق گوئی طرفداری نہیں ہے

کیا ہے وقت نے معذور مجھ کو

یہ مجبوری ہے، لاچاری نہیں ہے

حفاظت جان کی کرنا ہے اچھا

اگرچہ کوئی بیماری نہیں ہے

فقط مطلب سے اپنانا کسی کو

یہ خودغرضی ہے خودداری نہیں ہے

میں ہوں بازار سے منسوب لیکن

مِرا لہجہ تو بازاری نہیں ہے

اسے کیسے کہیں گے شاعری ہم

کوئی بھی شعر معیاری نہیں ہے

سخن میں اور بھی صنفیں ہیں فیصل

غزل کہہ لینا فن کاری نہیں ہے


فیصل گنوری 

No comments:

Post a Comment