خوف کچھ پرچھائیوں سے اس قدر کھاتا ہوں میں
اپنے اندر جھانکتا ہوں، اور ڈر جاتا ہوں میں
غم کی دوشیزہ سمٹ جاتی ہے اپنے آپ میں
بانہیں اس کے سامنے جب جب بھی پھیلاتا ہوں میں
دوستو!! دیکھو، یہ دنیا ہے اسی جانب رہو
آئینے سے جھانکتے لوگوں کو سمجھاتا ہوں میں
اس کی آنکھوں سے پرے بیٹھا ہوں سو وہ دیکھ لے
دیکھیۓ اب کب تلک اس کو نظر آتا ہوں میں
دل بھٹک جاتا ہے بچے کی طرح بازار میں
اس کو انگلی سے پکڑ کے گھر تلک لاتا ہوں میں
احمد اویس
No comments:
Post a Comment