Monday, 3 January 2022

وہ سوالات مجھ پر اچھالے گئے

 وہ سوالات مجھ پر اچھالے گئے

چاہ کر بھی نہ جو مجھ سے ٹالے گئے

تھا یہ روشن جہاں روشنی ان سے تھی

وہ گئے، ساتھ ان کے اجالے گئے

خط تو یوں سیکڑوں میں نے ان کو لکھے

جو بھی دل سے لکھے، وہ سنبھالے گئے

جب زباں بند تھی، روٹی ملتی رہی

کھول دی پھر تو منہ کے نوالے گئے

خار راہوں میں غیروں نے ڈالے مگر

دوستوں کے اشاروں پہ ڈالے گئے

جگ نے تعریف جتنی بھی میری سنی

دوش اتنے ہی مجھ میں نکالے گئے

اشک پی کر جو غیروں کے ہنستے رہے

لوگ کلکل! کہاں وہ نرالے گئے


راجندر کلکل

No comments:

Post a Comment