Monday, 3 January 2022

کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں

 کوئی بستی نئی ہم تم کہیں آباد کرتے ہیں

چلو آؤ، کوئی رستہ نیا ایجاد کرتے ہیں

سمندر ہو کہ صحرا ہو گل و گلزار ہو چاہے

یہ ہم ہی لوگ ہیں جو ہر نگر آباد کرتے ہیں

یہی خواہش تمہاری ہے کہ تم ہم سے بچھڑ جاؤ

تو پھر جاؤ ابھی سے ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں

ہمیں تو آرزو یہ تھی قفس کو توڑ ڈالو تم

مگر تم نے کیا وہ ہی جو سب صیاد کرتے ہیں

مِرے ہر لفظ میں یا رب بیاں ہو حق فقط سچ ہو

عطا دی ہے قلم کی تو یہ بھی فریاد کرتے ہیں

محبت میں جو ہارے ہو تو بہتر ہے پلٹ جاؤ

در و دیوار سنگ و بام سب ہی یاد کرتے ہی


حنا امبرین طارق

No comments:

Post a Comment