ہماری زندگانی ہے،۔ حقیقت میں کہانی ہے
کہانی وہ کہ جس میں کوئی راجہ ہے نہ رانی ہے
تُو اک ناپختہ عادت ہے جو مجھ سے چھوٹ جائے گی
مگر کچھ دن ابھی مجھ کو تمہاری یاد آنی ہے
تمہیں انجام بھی معلوم ہے کچھ ایسے کھیلوں کا
تمہاری دل لگی ہو گی، کسی کی جان جانی ہے
دروں خانہ کہن سالہ کسی پیری کی زد میں ہوں
حقیقت اور ہے اس کی، بظاہر یہ جوانی ہے
شعیب صدیقی
No comments:
Post a Comment