Thursday, 14 April 2022

اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا

 اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا

جب نہ ہونا ہوا مِرا ہونا

بھا گئی مجھ کو بندگی جب سے

بھا گیا تجھ کو بھی خدا ہونا

مجھ کو منظور ہیں ستم تیرے

تِری ضد ہے اگر خفا ہونا

اک زمانہ بچھڑ گیا مجھ سے

کتنا مہنگا پڑا تِرا ہونا

رسمِ دنیا ہے ہوتا آیا ہے

یعنی اچھوں کا ہی بُرا ہونا

بعد مدت کے یہ کُھلا فیصل

کتنا مشکل ہے با وفا ہونا


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment