اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا
جب نہ ہونا ہوا مِرا ہونا
بھا گئی مجھ کو بندگی جب سے
بھا گیا تجھ کو بھی خدا ہونا
مجھ کو منظور ہیں ستم تیرے
تِری ضد ہے اگر خفا ہونا
اک زمانہ بچھڑ گیا مجھ سے
کتنا مہنگا پڑا تِرا ہونا
رسمِ دنیا ہے ہوتا آیا ہے
یعنی اچھوں کا ہی بُرا ہونا
بعد مدت کے یہ کُھلا فیصل
کتنا مشکل ہے با وفا ہونا
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment