Thursday, 14 April 2022

اے یار خوش جمال کبھی دیکھ آن کے

 اے یارِ خوش جمال کبھی دیکھ آن کے

بیٹھے ہیں ایک ایک تِری یاد چھان کے

میں نے ہزار مان لیں تیری تُو ایک بار

آ جا، پلٹ کے یار مِری ایک مان کے

آتا نہیں نظر جو حقیقت میں تُو کبھی

سو جاتے ہیں آنکھوں پہ ترے خواب تان کے

لگتے ہیں دوستا تجھے کم گو سے پُر سکون 

بیٹھے ہیں یار دل میں کوئی بات ٹھان کے

ہم جن کے پاس بیٹھ کے ہنستے تھے ایک ساتھ

اب شکوہ مجھ سے کرتے ہیں پودے وہ لان کے

جو یاد نہ کروں تجھے،ہوتے نہیں اشعار

یہ بھی مجھے ستاتے ہیں اب جان جان کے


مالا راجپوت

No comments:

Post a Comment