عین ممکن تھا کہ میں تیری وفا پا جاتا
تُو مجھے چھوڑ نہ جاتا تو تِرا کیا جاتا
اس لیے بھی مِرا غمخوار نہیں ہے کوئی
مجھ سے مطلب کا تعلق نہیں رکھا جاتا
ایسا کر، مجھ کو بھلا دے کہ تجھے چین آ جائے
یوں تِرا ٹوٹنا مجھ سے نہیں دیکھا جاتا
اب درازوں میں تِرے خط نہیں ڈھونڈے جاتے
اب کوئی زخم نہیں مجھ سے کریدا جاتا
ایک رشتہ جو بنایا ہے تِری یاد کے ساتھ
روز مجھ سے یہ تعلق نہیں توڑا جاتا
آج جس بزم میں بیٹھا ہوں محبت کے طفیل
میں اگر خاص نہ ہوتا تو بلایا جاتا
تُو نے جس پیار سے دیکھا ہے مجھے جانِ ودود
کیا ہی اچھا تھا جو اس طرح پکارا جاتا
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment