Tuesday, 14 December 2021

ہم نے بستر پہ گڑیوں کے نوحے سنے

 رنگ نما


ہم نے بستر پہ گڑیوں کے نوحے سنے

جن کو اُترن کی ترغیب کافی نہیں

ہم نے ٹُوٹے کھلونوں کی آنکھیں پڑھیں

جن کے مجرم کی کوئی معافی نہیں

آہنی دل کی تاریخ پڑھتے ہوئے

ہم نے کتنی مُدوِّن کتابیں پڑھیں

خون ہی خون تھا خونی بُرجوں تلے

کوئی کیسے چلے؟

شعبدہ باز تھا، چاند گہنا دیا

جس نے پریوں کے غم کو بڑھاوا دیا

ایک شودر نے اگنی کے پھیرے لیے

اور پربت کی رانی کو جھانسہ دیا

بے تحاشہ دیا

خواب بھی جس کی حالت پہ ہنستا رہا

وہ جو خالی جہانوں میں بستا رہا

اس کے خوابوں کو مٹی میں چنوا دیا؟

اب تو خوش ہو کہ شاعر کو ٹھکرا دیا

خود کو دھوکہ دیا

راہبوں کی زبانوں پہ تالے پڑے ہونٹ کالے پڑے

بھیک میں بھوک ہڑتال ملتی نہیں کال ملتی نہیں

ایک نِردھن کا بَن باس کس کام کا

پاپ کا تاپ شِکشا سے اترا کبھی

میل گنگا نہانے سے دُھلتا نہیں

بھید کُھلتا نہیں

چند دامن میں کچلی ہوئی تتلیاں

بالکونی سے ہٹتی ہوئی انگلیاں

راہداری میں پلو اٹکتا ہوا

من چٹختا ہوا

دور کی جیل سے نیند کی بیڑیاں کھینچ لاتے نہیں

خواب تکتے نہیں، دُکھ کماتے نہیں

زخم کھاتے نہیں

آنکھ بہتے ہوئے جھیل ہو جائے گی

اون مخمل میں تبدیل ہو جائے گی

ریت مٹی میں تحلیل ہو جائے گی؟

خواب کے جنگلوں میں بھٹکتے رہو

زہر چکھتے رہو


حنا عنبرین

No comments:

Post a Comment