سوچ رہا ہوں کس سیاہی سے آج کے میں حالات لکھوں
کیسے کر لوں دل پتھر کا، کیسے میں جذبات لکھوں
قتل و غارت، عصمت ریزی، چوری ڈاکہ، خونی کھیل
آج کے دور کے انسانوں کے کیا کیا میں عادات لکھوں
چہرہ چہرہ ایک کھنڈر ہے، آنکھوں میں ہے ویرانی
کس چہرے پر کن آنکھوں پر میں اپنے نغمات لکھوں
آنگن آنگن خون کے چھینٹے، چہرہ چہرہ بے چہرہ
کس کس کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوں
دشمن کو کیا دوست لکھوں میں قاتل کو لکھوں معصوم
زخم ملے ہیں جتنے مجھ کو کیا ان کو سوغات لکھوں
دل کو توڑا، ذہن کو موڑا، آگ لگا دی گھر گھر میں
اپنی نسل کی خاطر ان کی کیا کیا میں خدمات لکھوں
عبیدالرحمٰن
عبیدالرحمان
No comments:
Post a Comment