Tuesday, 14 December 2021

کام اپنا کر گئے ہیں یہاں فیل دیکھنا

 کام اپنا کر گئے ہیں یہاں فِیل دیکھنا

آئے نہیں ابھی تک ابابیل دیکھنا

کیچڑ میں فاختاؤں کے زخمی بدن گرے

کیسا لگا لہو سے بھری جھیل دیکھنا

دنیا پہنچ گئی ہے کہاں سے کہاں مگر

قابیل کا شکار ہے ہابیل دیکھنا

موسم بھی بے یقیں ہے، مسافر بھی بے یقیں

راہوں میں جلتی بجھتی یہ قندیل دیکھنا

جلتے دِیے کو سر پھرا، بُجھنے کو حادثہ

آندھی میں ان ہواؤں کی تاویل دیکھنا

منظر لہولہان تھا، تم ہوش میں نہ تھے

بستی ہوئی ہے راکھ میں تبدیل دیکھنا

اس دشتِ بے اماں میں، ان آہوں کی بھیڑ میں

ہوتی ہیں کیا قیامتیں، تمثیل دیکھنا

منصوبۂ بہار کا بس نام ہے خلش

منصوبۂ خزاں کی ہے تکمیل دیکھنا


رؤف خلش

No comments:

Post a Comment