Tuesday, 14 December 2021

منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے

 منزلوں کی اور جاتے سب اشارے مر گئے

آنکھ کی دہلیز پر جب خواب سارے مر گئے

لمحہ بھر کو چاند مٹھی میں چھپا کے رکھ لیا

لمحہ بھر میں دیکھ تو کتنے ستارے مر گئے

اس نے جب اک پھول کے رخسار پر بوسہ دیا

تم نے دیکھا ہی نہیں کتنے نظارے مر گئے

پانیوں کی چاہ میں اس کے قدم اُٹھے تو پھر

ہو گیا دریا سمندر،۔ اور کنارے مر گئے

اُس نے جب سر کو مِرے کاندھے پہ آ کے رکھ دیا

پھر شجر دیوار و در اور سب سہارے مر گئے

وقتِ رُخصت حوصلہ جانے کہاں گم ہو گیا

سوچ پاگل ہو گئی،۔ الفاظ سارے مر گئے

اِس طرح صدقے اُتارے اس نے اپنی ذات کے

اُس نے اپنے سر سے جتنے لوگ وارے مر گئے


اشفاق صائم

No comments:

Post a Comment