بُجھا رکھو یہ دِیا، راہبر نہیں آیا
تھا میرا مان مِرا ہمسفر نہیں آیا
الجھ کے ٹوٹ گئے تار سازِ ہستی کے
میں منتظر ہی رہی منتظر نہیں آیا
اُداس اُداس تخیل غبار رستوں کا
مسافتوں کی طوالت میں گھر نہیں آیا
میں گن رہی ہوں ستارے تمہاری مژگاں پہ
گزر رہی ہے شبِ ہجر در نہیں آیا
کہا تھا ہم نے اندھیروں سے دوستی نہ کرو
کہ اُس طرف جو گیا پھر اِدھر نہیں آیا
وہ رتجگوں کی تھکن تھی کہ دل کی ویرانی
چمن میں آتشِ گل بھی نظر نہیں آیا
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment