Tuesday, 14 December 2021

میری تلوار ہے یہ تیرا قلم

 میری تلوار ہے یہ تیرا قلم


ایک نظم ایک غزل

الجھا الجھا سا کوئی

شعر کہیں

ایک افسانہ کہانی

یا کوئی ایک کتاب

کوئی تصویر

کوئی خاکہ

کوئی ایک خیال

دل کے ایک کونے میں کہیں

کلیوں کے چٹکنے کی صدا

صبح دم اس میں بھیگے ہوئے

پھولوں کی مہک

دور دھندھلائے ہوئے

رنگوں کے پردے سے پرے

ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے

نغموں کی صدا

گہری آنکھوں میں کہیں

آنسو چھلکنے سے بھی پہلے کا سماں

گر کبھی ایسے ہی

کچھ نرم سے جذبات کو

الفاظ کا پیراہن دوں

ہتھکڑی ہاتھ میں پڑ جاتی ہے

اور کاغذ پہ کسی

پردۂ سیمیں کی طرح

ایک ایک کر کے

ابھرتے ہیں

ہزاروں چہرے

بین کرتے ہوئے

بے اثر گمنام سوال

پوچھتے ہیں کے یہ انصاف

لہو میں کب تک

تیری تلوار ہے یہ تیرا قلم

اور پھر دل کے کسی کونے سے

آتی ہے صدا

کتنے ہی ہاتھ ہیں جو

نرم سے جذبات رقم کرتے ہیں

یہ قلم تیشہ و تلوار ہے

ان ہاتھوں میں

امن و انصاف کی

بے باک تمنا کے لیے

پھر سے ایک بار اسے وقف کرو


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment