تا کہ امید بندھے اور سہارہ ہو جائے
ایک ہی حل ہے کہ اب عشق دوبارہ ہو جائے
کوئی صورت تو ہو تنہائی میں مل بیٹھنے کی
چارہ گر! آ، کہ غمِ ہجر کا چارہ ہو جائے
کیا کرے کوئی بجز عشق میں مر مٹنے کے
دشمنِ جاں ہی اگر جان سے پیارا ہو جائے
ایسی کیا بات ہے تم میں، کبھی بتلاؤ تو؟
جو بھی اک بار ملے تم سے، تمہارا ہو جائے
اس سے بڑھ کر ہے کہاں اپنی طلب کوئی ودود
اک محبت کی نظر،۔ اپنا گزارا ہو جائے
فیصل ودود
No comments:
Post a Comment