Saturday, 9 April 2022

تا کہ امید بندھے اور سہارا ہو جائے

 تا کہ امید بندھے اور سہارہ ہو جائے

ایک ہی حل ہے کہ اب عشق دوبارہ ہو جائے

کوئی صورت تو ہو تنہائی میں مل بیٹھنے کی

چارہ گر! آ، کہ غمِ ہجر کا چارہ ہو جائے

کیا کرے کوئی بجز عشق میں مر مٹنے کے

دشمنِ جاں ہی اگر جان سے پیارا ہو جائے

ایسی کیا بات ہے تم میں، کبھی بتلاؤ تو؟

جو بھی اک بار ملے تم سے، تمہارا ہو جائے

اس سے بڑھ کر ہے کہاں اپنی طلب کوئی ودود

اک محبت کی نظر،۔ اپنا گزارا ہو جائے


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment