میری جاں کے واسطے ہے تیری غمخواری عذاب
ہو رہا ہے روز میری روح پر طاری عذاب
اک طرف تو تیرا غم ہے اک طرف تنہائیاں
جھیلنا پڑتا ہے جاناں مجھ کو دو دھاری عذاب
خواب میں دیدار تیرا ہورہا تھا خیر سے
لگ رہی ہے مجھ ہی اب میری بیداری عذاب
منہ چھپائے پھر رہا ہے آج تُو ہر ایک سے
بن گئی ہے تیری خاطر تیری ہشیاری عذاب
آج گر خاموشیوں سے سہہ گئے تو دیکھنا
ہم پہ نازل ہو گا ہر دن ایک سرکاری عذاب
مرضی مولا سمجھ کر کون خوش ہے دوستو
لگ رہی ہے سب کو اپنی اپنی بیماری عذاب
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment