Saturday, 9 April 2022

میری جاں کے واسطے ہے تیری غمخواری عذاب

 میری جاں کے واسطے ہے تیری غمخواری عذاب

ہو رہا ہے روز میری روح پر طاری عذاب

اک طرف تو تیرا غم ہے اک طرف تنہائیاں

جھیلنا پڑتا ہے جاناں مجھ کو دو دھاری عذاب

خواب میں دیدار تیرا ہورہا تھا خیر سے

لگ رہی ہے مجھ ہی اب میری بیداری عذاب

منہ چھپائے پھر رہا ہے آج تُو ہر ایک سے

بن گئی ہے تیری خاطر تیری ہشیاری عذاب

آج گر خاموشیوں سے سہہ گئے تو دیکھنا

ہم پہ نازل ہو گا ہر دن ایک سرکاری عذاب

مرضی مولا سمجھ کر کون خوش ہے دوستو

   لگ رہی ہے سب کو اپنی اپنی بیماری عذاب


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment