Saturday, 9 April 2022

خزاں گزیدہ چمن میں بہار باقی ہے

 خزاں گزیدہ چمن میں بہار باقی ہے

کہ تخمِ گُل پہ مِرا اعتبار باقی ہے

ہر ایک چیز کی باری ہے دَورِ دَوراں میں

جو لوگ جیت گئے، ان کی ہار باقی ہے

شراب ختم ہُوئی ہے، سبُو بھی ٹُوٹے ہیں

رہا تو کُچھ بھی نہیں، کُچھ خُمار باقی ہے

رُتوں کے ساتھ بدلتا ہے جوشِ ہر دریا

گُزر چُکا ہے چڑھاؤ، اُتار باقی ہے

رہی ہے دِل کی لگی، دِل لگی مگر نہ رہی

کہ دِل رہا نہ رہا، دلفگار باقی ہے

نگار خانہ گِرایا گیا، تو گِرنے دو

دِلِ زمانہ میں رُوئے نِگار باقی ہے

مِٹے ہیں رُوئے زمِیں سے تمھارے نقشِ قدم

ضمِیرِ دہر میں اِک یادگار باقی ہے

چلے گئے ہیں اگرچہ جہاں سے وہ، عاؔلم

نفوسِ وقت میں اُن کا شُمار باقی ہے


انتخاب عالم

چانگ شی شوان

No comments:

Post a Comment