Saturday, 9 April 2022

دیکھا ہے جو اک میں نے وہی خواب بہت ہے

دیکھا ہے جو اک میں نے وہی خواب بہت ہے

ورنہ تو وفا دوستو! کمیاب بہت ہے

یہ دل کی زمیں بنجر و وِیران پڑی تھی

تھوڑی سی ہوئی تجھ سے جو سیراب بہت ہے

کل لب پہ تِرے شہد بھری بات دھری تھی

اور آج کے لہجے میں تو تیزاب بہت ہے

اک میں کہ نگوڑی کے لیے جان بکف ہوں

اک جنسِ محبت ہے کہ نایاب بہت ہے

جب عہد کیا دل نے کہ بے چین نہ ہو گا

پِھر کیا ہے سبب اس کا کہ بے تاب بہت ہے

کچھ فرق نہِیں چاند رسائی میں نہِیں جو

تُو میرے لیے اے مِرے مہتاب! بہت ہے

کمزور عدو کو ہی سمجھنا ہے تِری بھول

بازو میں تِرے مانتے ہیں تاب بہت ہے

کچھ اور کروں تجھ سے بھلا کیسے تقاضہ

آنکھوں میں بسا رکھا ہے جو آب بہت ہے

کہتا ہے تجھے کون کہ تُو ٹوٹ کے چاہے

حسرت کے لیے اک تِرا آداب بہت ہے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment