Saturday, 9 April 2022

وہ جو خوابوں کے سلسلے تھے میاں

 وہ جو خوابوں کے سلسلے تھے میاں

کیسے بن کر بکھر گئے تھے میاں

تم خریدار ہی نہ تھے، ورنہ

ہم تو بے دام بک رہے تھے میاں

راستے خود بخود بدلتے رہے

اور ہم تم سے آ ملے تھے میاں

اذنِ قربت میں کتنی دیر ہوئی

ہم تو صدیوں سے جا چکے تھے میاں

قافلہ دل کا لٹ گیا تھا وہیں

جب نگہبان تم ہوئے تھے میاں


رخسانہ سمن

No comments:

Post a Comment