اس کی ہر بات نے جادو سا کِیا تھا پہلے
کتنا دلچسپ کہانی کا خدا تھا پہلے
خواب لمحہ تِری خُوشبو میں بسا تھا پہلے
بے خبر نیند میں اک پُھول کِھلا تھا پہلے
کوئی تاثیر تھی جو غم کو بُھلا دیتی تھی
تیرے اندر کوئی فنکار چُھپا تھا پہلے
یہ بدن اب تجھے بے رُوح کھنڈر لگتا ہے
اس حویلی میں اک انسان جیا تھا پہلے
وقت پر موت کی لذت بھی نہیں دے پایا
مجھ کو وہ آدمی ہیرا ہی لگا تھا پہلے
میں جو کہتا تھا وہی بات ہُوا کرتی تھی
میرے گھر میں کوئی جادُو کا دِیا تھا پہلے
کیسے آتا ہے دبے پاؤں گُناہوں کا خیال
کتنی خاموشی سے دروازہ کُھلا تھا پہلے
جو بھی چہرہ تھا وہ اپنا سا لگا کرتا تھا
مے کدہ رقص میں جب جُھوم رہا تھا پہلے
اُٹھ گیا ہے تو اب اس شہر کو لے ڈُوبے گا
وہی طُوفاں مِرے اندر جو دبا تھا پہلے
ف س اعجاز
فیروز سلطان اعجاز
No comments:
Post a Comment